104

ادھوری کہانی (آوازِ جرس) منعم مجید

آج رات میں تمہارا یہ شہر چھوڑ جائوں گا۔ تم نے مجھے بہت دکھ دئیے ہیں ۔ میری روح اور جسم پر لگنے والے یہ گھائو جو تم اور تمہارے اس حسن کی سوغات ہیں ،انہیں اپنے سینے میں چھپائے یہاں سے بہت دور چلا جائوں گا۔اتنی دور کے تم لاکھ چاہ کر بھی کبھی مجھ تک نہ پہنچ پائوگی۔ شائزہ!تمہیں دیکھتا ہوں تو مجھے اس شہزادی کی کہانی یاد آتی ہے جسے اپنے حسن پر بے حد غرور تھا ۔ موسم جس کے اک اشارے کے منتظر رہتے ، چاند جس کے رُخِ روشن سے جلتا ،ستارے جس کی آنکھوں کی تابانی سے شرماتے ۔ جو چلتی تو بادِ صبا اس کا تعاقب کرتی جو رکتی تو گردشِ ایام تھمتی۔ لیکن افسوس !قدرت کی ان نوازشوں کا اسے جتنا شکرگزار ہونا چاہیے تھا وہ ان پر اتنا ہی مغرور ہوگئی۔ خُدا کی عطا کردہ ان نعمتوں کو اپنا حق سمجھ بیٹھی۔ محل کے دروازے پر لگنے والی لوگوں کی بھیڑ جو اس کی ایک جھلک دیکھنے کو لگتی ،اسے کبھی متاثر نہ کرپاتی ۔ وہ ان سب کے درمیان سے بالکل لاپرواہ گزرتی اور جو ایسے میں کوئی پاگل دیوانہ بڑھ کر اس کے قدم چومنے کی کوشش کرتا وہ غصے سے اس کے چہرے پر ٹھوکر ماردیتی اور پھر اس کی یہ بڑھتی ٹھوکریں خدا کو ناراض کرگئیں۔ اک رات جب وہ شہزادی اپنے مخملیں بستر پر محوِ خواب تھی کہیں سے اک سانپ آیا اور اسے ڈس کر غائب ہوگیا۔ اگلے دن شہزادی ایک عجیب و غریب بیماری میں مبتلا ہوگئی ۔ اس کے نرم و نازک بدن پر بے شمار آبلے بن گئے جو اسے کسی پل چین نہ لینے دیتے۔ ان آبلوں سے رستاپانی اسقدر بدبودار تھا کہ سب اس سے کترانے لگے ۔کل تک جسے اک نظر دیکھنے کے لئے ہزاروں لوگ قطار بنا کر کھڑے رہتے اب اسے دیکھ کر چھپنے لگے ،اپنا راستہ بدلنے لگے ۔ شہزادی راتوں کو درد کی شدت سے چلاتی مگر کوئی اس کی مدد کو نہ آتا۔ بیماری اتنی بڑھی کہ اگلے چند دنوں میں وہ چلنے پھرنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہوگئی۔ وہ لاکھ روئی پچھتائی مگر اس عذاب سے چھٹکارہ نہ پاسکی۔ اورپھر اسے پتا چلا کہ شہر میں اک ایسا شخص آیا ہے جو لوگوں کو چھوکر ٹھیک کردیتا ہے ۔شہزادی ہاتھوں پیروں کے بل چلتی سینکڑوں جتن کرکے اس شخص تک پہنچی اور اپنا غرور و تکبر سے بھرا سر اس کے قدموں میں رکھ دیا۔ شائزہ! اس شہزادی کی کہانی تو یہاں ختم ہوجاتی ہے مگر ہماری کہانی ابھی جاری ہے ۔ آج رات جب تم اپنے مخملیں بستر پر محوِ خواب ہوگی میں تمہارا یہ شہر چھوڑ جائوں گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں