116

اصل مجرم

ماشا! یہ دنیا ان لوگوں کو معاف کرتی ہے جو ان کے لئے بے ضرر ہوتے ہیں، جن سے انہیں کوئی خوف نہیں ہوتا، جو آئینے کی طرح انہیں اپنا اصل چہرہ ، اس کا بھیانک روپ دیکھنے پہ مجبور نہیں کرتے۔۔۔۔۔ لیکن تم اس دنیا سے ایسی کوئی امید مت رکھنا۔
تمہارے جرم بھلانا ان لوگوں کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لئے تمہیں کوئی نئی دنیا ڈھونڈنی ہوگی، کسی نئے نگر کو کھوجنا ہوگا۔۔۔۔ ایسا نگر جہاں انسان نہیں فرشتے بستے ہوں۔۔۔۔۔ فرشتے۔ جو تمہیں اپنا جان سکیں۔۔۔۔ وہ فرشتے جو تمہیں اپنا مان سکیں۔۔۔۔ اور جو برا نا مانو تو اک اور بات کہوں؟ ۔۔۔۔۔۔ ہوسکے تو اس دنیا اور یہاں کے لوگوں کو ہمیشہ کے لئے معاف کردینا۔۔۔۔ کے نادان نہیں جانتے کے کون کس کے قابل نہیں تھا۔ اصل مجرم کون تھا۔۔۔۔۔ تم یا ہم سب؟ (منعم مجید)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں