74

بے وجہ سی زندگی (اآوازِ جرس)

ماشا! یہ ناکام و نامراد زندگی تومانو تمہاری دعا بن گئی ہے ۔ میں جو کل تک اپنے کمرےکی دیواروں سے اپنا سر پھوڑتا تھا ۔ مایوسی و ناکامی کے بادل جس کے گرد ہر وقت منڈلاتے تھے ۔ آج تمہاری محبت کی دھوپ نے خوف و دہشت کے وہ سب بت پگھلا دئیے ہیں ۔ ایسے جیسے کبھی کہیں ان کا کوئی وجود سِر ےسے تھا ہی نہیں۔ میرے یہ قدم جو کل تک اپنے گھرکی چوکھٹ چھوڑنے کو کسی صورت تیار نہ ہوتے ، آج منزلیں بڑھ کر یوں ان سے لپٹتی جاتی ہیں کے جیسے ہمیشہ سے ان کی منتظر ہوں۔وہ سب اپنے جو آزمائشوں کے جنگل میں مجھے یوں تنہا چھوڑگئے کہ جیسے کبھی آشنا نہ تھے ،اک دفعہ پھر چہروں پہ اپنائیت کی ردا اوڑھے یوں جانثار ہوئے جاتے ہیں کہ میں خود ہی پشیمان ہوا جاتا ہوں۔ یہ سب کیا ہے؟ کیوں ہے ؟ جتنا بھی کوشش کروں سمجھ نہیں پاتا۔ زندگی کا یہ کھیل اتنی دفعہ دیکھ چکا ہوں کے اب تو شرم سے مرا جاتا ہوں ۔ جیتنے والے کی خوشامد اور پھولوں کے ہار ، ہارنے والے کے لئے لعنت ،ملامت اور ذلتوں کے پہاڑ ۔۔۔۔ تُف ہے ان دنیا والوں پہ۔۔۔۔ آخر کب یہ اپنا یہ روئیہ بدلیں گے؟ کس دن یہ انسان کو انسان ہونے کی حیثیت سے اپنائیںگے ؟ جیتنے والے کو کندھے پہ بٹھانے کی بجائے ، راہ میں گر جانے والے کو اٹھا کر سینے سے لگائیں گے؟ کب آئے گا وہ وقت ماشا؟ اور کیا کبھی آئے گا بھی یا یہ یونہی اس دنیا کو اپنے انجام تک پہنچا چھوڑیں گے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں