104

انہونی (آوازِ جرس) منعم مجید

محبت کی ہر کہانی حُسن کی ہار اور عشق کی جیت پر ہی کیوں ختم ہوتی ہے؟ کبھی یہ ترتیب اُلٹ بھی تو ہونی چاہیے نا ۔ تو چلو ہم تم مل کر اس انہونی کو ہونی میں بدلتے ہیں ۔ میں حُسن کی رِدا اوڑھتی ہوں ،تم عشق کا چولا پہنو۔ میں غرور میں ڈھلتی ہوں تم سراپا عجز بنو۔ میں سرِبازار نازاں ، تم سرجھکائے میرے پیچھے چلو۔ ہر تعریف میری ذات سے منسوب ،ذلتوں کے سب طوق تمہارے گلے کی زینت۔ اور جو میں کہیں تھک کر آرام کروں ،تم میرے انتظار میں دن رات جلو ۔ کہو منظور ہے تم کو؟ وہ اپنی آنکھوں میں دنیا بھر کی شرارت سمیٹ کر بولی۔
ہاں مجھے تمہاری ہر بات منظور ہے لیکن بس اک ذرا سی اجازت مجھے بھی دے دو۔
کہو کیا چاہتے ہو تم؟
اس سارے سفر میں جو بھی تم کہو گی ، تمہاری ہر بات مانوں گا مگر بس اتنی گزارش ہے ،کبھی میں اس کھیل سے اکتایا تو بنا تمہیں بتائے ،واپس جانے کا حق حاصل مجھے ہوگا، وہ سپاٹ لہجے میں بولا۔
یہ تم کیا کہہ رہے ہو ؟ تم اتنے خود غرض کیسے ہوسکتے ہو؟ اچھا رہنے دو ،مجھے نہیں کھیلنا یہ کھیل اور ویسے بھی مجھے اپنے بچپن سے کسی انہونی کے ہونے سے خوف آتا ہے ،چند آنسو اس کی پلکوں سے ٹوٹ کر زمین پر جاگرے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں