بقیہ کہانی

ٹام کو بچپن سے اپنے گھر کی نسبت گھر سے بالکل قریب جو قبرستان تھا وہاں زیادہ سکون ملتا تھا۔ اس کا زیادہ تر وقت قبرستان میں ہی گذرتا تھا اسے تقریباً تمام قبروں میں دفن لوگوں کے بارے میں معلوم تھا کس میں اس کی دادی سوئی ہوئی ہیں کس میں اس کے دادا ابوکس میں اس کے دوسرے عزیز یا محلہ دار اور جن قبروں میں دفن لوگوں کے بارے میں اسے کچھ نہیں پتا تھا ۔ ان قبروں سے بھی اسے ایک انجانا سا اُنس محسوس ہوتا۔ گاؤں کے شمالی سرے پر واقع یہ قبرستان زیادہ بڑا نہیں تھا اوراس میں دفن شدہ لوگ اسی گاؤں کے تھے ۔ اس لئے بڑی عمر کے تقریباً تمام لوگوں کو پتا تھا کہ کون سی قبر میں کون دفن ہے مگر بچوں میں صرف ٹام ایسا بچہ تھا جسے یہ سب پتا تھا ۔ وہ ایک قبر پر بیٹھا کئی کئی گھنٹے گزار دیتا ۔

قبرستان میں ہوتے ہوئے وقت کے گزرنے کا پتا ہی نہ چلتا تھا ۔ اس کے بڑے جن میں اس کے والدین اور بہن بھائی بھی شامل
تھے اُسے قبرستان میں اتنا زیادہ وقت گزارنے پر ہمیشہ ہی منع کرتے لیکن وہ کسی کی بات نہ مانتا تھا ۔ اس کے ماں باپ نے اُسے ڈرا دھمکا کر پیار اور لاڈ سے ہر طرح سے آزما کر دیکھ لیا تھا لیکن وہ قبرستان جانے سے باز نہ آیا۔ جوں جوں وقت گزر رہا تھا ٹام کے ماں باپ کی پریشانی بڑھتی جارہی تھی ۔ اُنہیں ڈرلگنے لگا کہ کہیں ٹام پر کوئی آسیب وغیرہ نہ قبضہ کرچکا ہو ۔ اسی وجہ سے اسکے باپ نے کئی مرتبہ اس کا پیچھا کرکے دیکھا لیکن وہ ہمیشہ گھر سے نکل کر سیدھا قبرستان میں اپنی دادی کی قبر پر جا بیٹھتا اور کتنی ہی دیر بعد اُٹھتا اور سیدھا گھر آجاتا۔ اور یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اس کے باپ کا شک یقین میں بدل گیا کہ ٹام کسی شے کے اثر میں آکر قبرستان جاتا ہے ۔ پہلے اس کا خیال تھا کہ شاید ٹام اپنے دوستوں کی قبروں پر جاکر بیٹھتا ہوگا اور بچہ ہونے کی وجہ سے اپنے خیالوں میں ان سے باتیں کرتا ہوگا اور ذرا بڑا ہونے پر خود ہی سنبھل جائے گا ۔ ٹام کے یہ دوست پچھلے سال گاؤں میں اکٹھے کھیل رہے تھے کہ ان پر آسمانی بجلی گرگئی تھی ۔ کرس ، ولی اور روزی موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ ٹام اپنی خوش قسمتی کی وجہ سے بچ گیا تھا ۔اس دن وہ چاروں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے تیز تیز گھوم رہے تھے بارش سے محفوظ ہورہے تھے کہ ہاتھ گیلے ہونے کی وجہ سے روزی کے ہاتھ سے ٹام کا ہاتھ پھسل گیا اور وہ ایک جھٹکے سے دور جا گرا ۔جس جگہ وہ گرا وہاں ایک درخت تھا ابھی ٹام اُٹھ بھی نا پایا تھا کہ یک دم آسمان سے بجلی گری اور کرس ، روزی اور وِلی کو جلا کر خاک کرگئی۔ ٹام کے لئے یہ سب انتہائی ناقابل یقین تھا۔ اور پھر جب اس کے ان تینوں دوستوں کی میتوں کو اُٹھا کر لوگ دفنانے کے لئے قبرستان لے کر گئے تو ٹام بھی ان کے ساتھ گیا ۔وہ گیا تو ان سب کے ساتھ لیکن واپس ان کے ساتھ نہ آیا اور اس کا باپ کافی دیر بعد اسے بے ہوش حالت میں اپنے بازوؤں میں اُٹھا کر لایا۔ شروع میں اس کے قبرستان میں زیادہ وقت گزارنے کا اسی لئے کسی نے نوٹس نہ لیا کہ بچہ ہے اور یہ صدمہ اس کے لئے کافی بڑا ہے۔ آہستہ آہستہ دوستوں کی یادیں اس کے ذہن سے مٹ جائیں گی تو نارمل ہوجائے گالیکن اب تو بات حد سے بڑھ چکی تھی ۔ اس کا باپ فیصلہ کرچکا تھا کہ وہ ٹام کو یہاں سے دور شہر اپنے بھائی کے پاس پڑھنے کے لئے بھیج دے گا ۔ جب ٹام کو ان کے اس ارادے کا پتا چلا تو اس نے بہتیرا انکار کیا چیخا چلایا لیکن اس کے ماں باپ پر کوئی اثر نہ ہوا اور انہوں نے اسے دو دن کے اندر یہاں سے جانے کا کہہ د یا۔ اس کے باپ نے اسے کہا کہ تُمہیں جو تیاری کرنی ہے کر لو پرسوں تُمہارے چچاتُمہیں لینے کے لئے آرہے ہیں ۔ میں نے اُنہیں تار دے دی ہے ۔
ٹام نے اگلا سارا دن قبرستان میں گزارا ۔اس کے ماں باپ نے بھی کچھ نہ کہا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ کل وہ یہاں سے چلا جائے گا۔ اگلے دن اس کے چچا دوپہر کے وقت گاؤں پہنچ گئے۔پورے علاقے میں زبردست سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے ۔ ٹام کے سب بیگ وغیرہ اس کی امی نے پہلے ہی تیار کردئیے تھے ۔ اس کے چچا رات ہونے سے پہلے واپس گھر پہنچنا چاہتے تھے ۔ اس لئے انہوں نے کھانا کھاتے ہی اسے چلنے کو کہا اُنہیں ڈر تھا کہ کہیں بارش نہ شروع ہوجائے اور وہ واپس نہ جاسکیں ۔ آسمان پر چھائے ہوئے بادلوں کے مزاج کو سمجھتے ہوئے وہ یہ چاہتے تھے کہ بارش شروع ہونے سے پہلے وہ کم از کم اسٹیشن تک پہنچ جائیں۔ اس لئے انہوں نے فوراً بیگ اُٹھائے اور بھائی اور بھابی سے اجازت لی ٹام کا ہاتھ پکڑا اور باہر نکل گئے۔
گھر سے تھوڑا دور آتے ہی یکدم بڑے زوروں کی بارش شروع ہوگئی ۔ آسمان پر زبردست دھماکے ہونے شروع ہوگئے ۔ جس کے نتیجے میں بادلوں سے بار بار بجلی زمین کی جانب کوندتی ۔ انہوں نے بارش سے بچنے کے لئے پناہ کی تلاش میں نگاہیں دوڑائیں تو ٹام کو قریب ہی وہ درخت نظر آیا جس کے نیچے گرنے کی وجہ سے وہ بچ گیا تھا اس نے چچا کو اس طرف بھاگنے کا اشارہ کیا دونوں بڑی تیزی سے اس درخت کی جانب لپکے درخت کے قریب پہنچتے ہی یکدم اس کے کندھے کے بیگ کاہک تیز بھاگنے کی وجہ سے ٹوٹ گیا ۔بیگ زمین پر گرا اور ٹام کا جسم لاشعوری طور پر بیگ کو پکڑنے کے لئے رُکا ۔ایسے میں اس کے چچا کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکل گیا اور وہ زیادہ تیز ہونے کی وجہ سے خود کو فوری طورپر روک نہ سکے اور درخت کے نیچے پہنچ گئے ۔ انہوں نے جلدی سے آواز دی بیگ کو اُٹھا کر بھاگ آؤ۔ ٹام نے چچا کی بات سن کر بیگ کو اُٹھایا اور ابھی ایک قدم ہی اُٹھایا ہوگا کہ یکدم آسمان سے بجلی گری اور اس کو جلا کر خاک کرگئی۔
ٹام کے جنازے کو اُٹھائے جب اس کا باپ اور دوسرے رشتہ دار قبرستان میں پہنچے تو گورکن نے اُنہیں بتایا کہ صبح جس وقت مُجھے اس بچے کے مرنے کی خبر ملی اور میں قبرستان میں مناسب جگہ دیکھنے کے لئے نکلا تو ایک عجیب ہی بات ہوئی ایک جگہ پر مُجھے بالکل اسی بچے کے قد برابر گڑھا نظر آیا اسے دیکھ کو یوں لگتا تھا کہ جیسے کسی نے اسے اپنے ہاتھوں سے کھودا ہوپہلے تو میں حیران ہوا لیکن پھر میں نے اسی کو ٹھیک طرح سے تیار کردیا ۔ اور جب وہ میت کو قبر کے پاس لے کر پہنچے تو وہ کرس ، ولی اور روزی سے اگلی قبر تھی۔
شام کو جس وقت ٹام کے والد ، بہن بھائی اور دوسرے رشتے دار اسے دفنانے کے بعد قبرستان سے باہر نکل رہے تھے وہ کرس ، ولی اور روزی کے ہمراہ اپنی دادی کی قبر کے اوپر بیٹھا دادی سے کل کی کہانی کا بقیہ حصہ سن رہا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں