112

تالیاں (قابلِ رحم) منعم مجید

حسن ایک عام طالب علم تھا۔ ایسا طالب علم جو جتنی توجہ پڑھائی پر دیتا اس سے کئی گنا زیادہ کھیل کود پہ ۔ اس کے لئے سکول کے چھ سات گھنٹوں کی پڑھائی اتنی زیادہ تھی کہ باقی سارا دن وہ اس بارے میں لمحہ بھر کو بھی نہ سوچتا ۔ جبکہ میرا معاملہ حسن کی نسبت اُلٹ تھا۔ میں سکو ل سے چھٹی کے بعد گھر پہنچ کرباقی کے اوقات میں بھی پڑھتا رہتا۔ میرے نزدیک سکول میں صرف پڑھنا اور لکھنا سکھایا جاتا تھامگر پڑھنے اور لکھنے کی اصل مشق گھر میں ہی ہو سکتی تھی۔ یہی بات میں اکثر اوقات حسن کو بھی سمجھانے کی کوشش کرتا مگر وہ ہمیشہ ہی میری ایسی باتوں کو کسی اُکتائے شخص کی مانند سنتا ۔
سکول سے چھٹی کے بعد گھر میں حسن کا باقی سارا دن کھیل تماشوں میں مصروف رہنا اور میرا گھر آکر بھی پڑھتے رہنا۔ ان سب کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی تھی کہ حسن ایک امیرگھر کا بچہ تھااور اس کے پاس دنیا کی ہر نعمت تھی ۔ مہنگے امپورٹڈ کھلونوں سے لے کر ویڈیو گیمز کھیلنے کے لئے پیسوں تک ۔ اس کی نسبتاً میرے پاس کُچھ بھی نہ تھا۔ بلکہ میرے ماں باپ تومیری سکول کی فیس بھی بڑی مشکل سے ادا کرپاتے ۔ حسن کی صاف ستھری ،مہنگی یونیفارم کے مقابلے میں جماعت کے کسی دوسرے بچے کا کوئی مقابلہ نہیں تھاتو حسن اور میرا کیا مقابلہ ہوتا۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود حسن اور میری دوستی بہت گہری تھی ۔ ہمیںکبھی بھی اس فرق کا احساس نہ ہوا جو ہم دونوں کے درمیان تھا۔ اس کی ایک دوسری وجہ شاید ہماری معصومیت تھی۔
ہر روز صبح جب میں سکول جانے کے لئے اُٹھتا ۔ اپنا سکول بیگ تیار کرتے اور ناشتہ کرتے ہوئے میں جس قدر تیزی دکھا تا۔ میری امی ہمیشہ ہی مُجھ پر رشک کرتیں۔ وہ حیران ہونے کے ساتھ خوش بھی ہوتیں کے ان کی سہیلیوںکے بچے سکول جانے کے لئے نہ خوشی سے ناشتہ کرتے ہیں اور نہ ہنسی خوشی تیار ہوتے ہیں ۔ مگر میرا معاملہ دوسرا تھا ۔ میرے سوا کوئی نہیں جانتا تھا کہ میری اس پھرتی اور جوش کی اصل وجہ سکول جلد پہنچ کر حسن کے ساتھ کھیلنے کی خواہش ہے ۔حسن سکول وین پر آتا تھا اور اس کے وین والے انکل اُسے سکول کے وقت سے ایک گھنٹہ پہلے سکول لے آتے تھے ۔
صبح خالی سکول میں پھرتے ہوئے ہمیں بہت مزہ آتا۔ درختوں پر پرندے چہچہارے ہوتے ۔ باغ کو مالی نے پانی سے گیلا کیا ہوتا۔ اس وجہ سے ہم گھاس پر قدم نہ رکھتے بلکہ مختلف کلاسوں اور برآمدوں میں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے گھومتے رہتے ۔ ہمارا یہ سکول بہت زیادہ بڑا نہیں تھا مگر مُجھے ہمیشہ کسی ایسے پراسرار قلعے کی مانند دکھائی دیتا ۔ جس میں ہر روز ہی کوئی نیا راستہ یا کوئی نیا کمرہ دریافت ہوجاتا۔ ہماری جماعت کے بالکل اُلٹی طرف کُچھ ایسے کمرے تھے جن پر تالے لگے رہتے ۔ ان کمروں تک پہنچنے کے لئے ہمیں ایک بہت لمبا چکر کاٹنا پڑتا ۔ یہاں پہنچ کر ہم ان کمروں کے دروازوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے دباتے تو دروازے کے دونوں پٹ علیحدہ ہوجاتے اور ان کے درمیان ایک جھری سی بن جاتی جس کے ساتھ اپنی آنکھیں لگا کر ہم اندر جھانکنے اور اپنے اپنے طور پر نت نئے انکشافات کی جستجومیں رہتے ۔
حسن اور میری دوستی ہماری پوری کلاس میں سب سے زیادہ مشہور تھی۔ سب جانتے تھے کہ ہم پکے دوست ہیں ۔ ہماری اس دوستی میں جہاں ہماری طبیعتوں اور عادتوں کا مزاج ایک تھا ،وہیں ایک دوسری وجہ یہ تھی کہ ہم دونوں نے کبھی ایک دوسرے پر اپنی قابلیت یا امارت کا رعب نہ ڈالا تھا۔ کلاس روم میں جب ٹیچر بار بار مُجھ سے سوال پوچھتیںیا ریاضی کے سوال سمجھاتے ہوئے ٹیچر تختہ سیاہ پر مثالوں میں میرا نام استعمال کرتیں مُجھے کبھی فرق نہ پڑتا ۔ امتحان میں پوزیشن لینے پر بھی میں کبھی حسن کو محسوس نہ ہونے دیتا کہ میں اس سے بہتر ہوں ۔ دوسری جانب حسن بھی مہنگے یونیفارم ،رنگین کور(Cover)چڑھی موٹی موٹی کاپیوں، خوبصورت سکول بیگ، ان سب چیزوں کو بالکل نہ جتاتا۔ صرف ایک چیز کے معاملے میں وہ بے بس تھااور وہ تھا اس کا گھڑیاں جمع کرنے کا شوق جو کہ شاید اسے اپنے والد سے ورثہ میں ملاتھا۔ وہ ہر مہینے مُجھے اپنی کلائی پر بندھی ایک نئی گھڑی دکھا رہا ہوتا ۔ اس کا میوزک سنانے کے ساتھ ساتھ اس کے دوسرے گن بھی گنوا رہا ہوتا۔ اور یہ سب کرنے کے بعد آخر میں اپنے چہرے کو تھوڑا ترچھا کر کے بڑے ہی متجسسانہ لہجے میں پوچھتا ’’کیسی ہے ؟‘‘ ۔اور میں جو کہ اس کے اس سوال کا پہلے سے ہی منتظر ہوتا ۔اپنی آنکھوں میں حیرت اور تحسین بھر کر ہمیشہ ایک ہی جواب دیتا ’’زبردست‘‘ ۔ جسے سُن کر وہ خوشی سے پاگل ہوجاتا ۔ اس کا چہرہ خوشی اور مسرت سے سُرخ ہوجاتا۔
وقت گزرتا رہا اور ہماری دوستی گہری سے گہری ہوتی گئی ۔ دوسری جماعت سے اب ہم پانچویں جماعت میں تھے ۔ اب بھی ہم ’’بریک ٹائم‘‘ میں اکٹھے بیٹھتے اور ایک ساتھ ہی کھاتے ، میں گھر سے لایا ہوا اور حسن کنٹین سے ہمیشہ کی طرح کولڈ ڈرنک ، چپس اور نہ جانے کیا کیا۔’’بریک ٹائم ‘‘ میں ہمارے گرد اور بھی بہت سے بچے اکٹھے ہوجاتے بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ حسن کے گرد بہت سے بچے جمع ہوجاتے تھے ۔ اسے اپنے ساتھ کھیلنے اور کھانے کی دعوت دیتے ۔جس کے جواب میں حسن ہمیشہ اُن سے معذرت کرلیتا ۔ مُجھے نہیں معلوم کے حسن اُنہیں کیوں انکار کرتا تھا۔ شاید وہ جانتا تھا کہ وہ سب اُسے نہیں بلکہ اُس کے پیسوں کو کھیلنے اور کھانے کی دعوت دے رہے ہیں ۔ یا اس کی ایک وجہ میری وہ کہانیاں ہوسکتی ہیں جو میں سکول کی کنٹین سے خرید کر پہلے خود پڑھتا اور بعد میں اسے سناتا۔ چھوٹی چھوٹی چند پیسوں میں ملنے والی کہانیاں ہم دونوں کے لئے بہت اہمیت رکھتی تھیں ۔ میری کہانیوں کے مقابلے میں وہ مُجھے اُن فلموں کی کہانیاں سُناتا جو وہ’’وی سی آر‘‘پردیکھتا ۔یہ ’’جادوئی ڈبہ ‘‘اس دور میں بہت ہی نایاب شے تھا۔ اس وجہ سے اس کی فلموں کی کہانیاں میں بڑے شوق سے سُنتا ۔اگرچہ حسن کو ساری فلم میں سے صرف وہ حصے ہی یاد رہ جاتے جو اس کی پسند کے ہوتے مگر پھر بھی وہ فلم کی کہانی کُچھ یاداشت اور کُچھ اپنی چالاکی سے پوری کر دیتا اور میں مطمئن ہوجاتا۔ ہم دونوں ہی ایک دوسرے کی عادت اور ضرورت بن چکے تھے ۔
انہی دنوں ہمارے سکول میں ’’ہلال احمر ‘‘کی ٹیم اپنی تنظیم کے لئے چند مانگنے کے لئے آئے ۔ ہماری ٹیچر نے کلاس روم میں اعلان کیا کہ کل سب بچے اپنے اپنے گھر سے روپے لائیں گے اور کم از کم دو ٹکٹیں خریدیں گے ۔ ایک ٹکٹ پانچ روپے کی تھی دودس روپے کی ۔ ٹیچر نے یہ بھی کہا کہ جو اس سے زیادہ چندہ دینا چاہے وہ دے سکتا ہے مگر دس روپے کی ٹکٹیں خریدنا ہر بچے پر لازم تھا۔گھر آکر میں نے ابو کو بتایا تو پہلے تو انہوں نے کہا ’’کوئی ضرورت نہیں ‘‘مگر پھر میرے اصرارکرنے اور امی کے پاس جا کر رونے پر انہوںنے اگلے دن مُجھے پانچ روپے دئیے اور کہا کہ بس اتنے ہی دے دینا ۔ میں نے پانچ روپے بے دلی سے پکڑے اور روتا ہوا سکول چلا گیا۔ سکول میں سب بچے ہی پیسے لائے تھے ۔ میں نے حسن کی تلاش میں اپنی نظردوڑائی۔ وہ مُجھے باغ میں ایک درخت کے نیچے کھڑا نظر آگیا۔ میں فوراً بھاگ کر اس کے پاس پہنچا اور اس کے قریب جاتے ہی پہلا سوال اس سے یہی کیا کے کیا وہ بھی پورے روپے لایا ہے؟ ۔ حسن سے میرا یہ سوال بالکل بے معنی اور بے وقوفانہ تھا ۔ میں جانتا تھا وہ پورے پیسے لایا ہوگا بلکہ وہ چاہے تو دس کی بجائے بیس روپے بھی دے سکتا ہے ۔ مگر حسن کے جواب نے مُجھے حیران کر دیا ۔ اس نے کہا ’’نہیں !یار میں روپے نہیں لایا‘‘ ، ’’ماما!کہہ رہی تھیں کے وہ خود سکول آکر دیں گی‘‘۔ اس کے چہرے پر شرمندگی اور پریشانی نمایاں تھی۔ شاید اسے ڈر تھا، اگر اس کی ’’ماما ‘‘کسی دوسرے ضروری کام کی وجہ سے سکول نہ پہنچ سکیں تو کیا ہوگا؟ اسے پریشان دیکھ کر مُجھے اپنی پریشانی کُچھ کم ہوتی محسوس ہوئی۔تھوڑی دیر بعد میںنے حسن کو اپنی مشکل بتائی ۔ وہ کہنے لگا محسن میں اپنی ’’ماما‘‘سے تُمہیں بھی پیسے لے دوں گا۔ مُجھے اس کا یہ کہنا اچھا نہ لگا۔ لیکن !میں جانتا تھا اس نے ایسا صرف دوستی کی وجہ سے کہا ہے ۔ اس کے جواب میں میں نے کہا ’’نہیں یار میں ٹیچر سے کہہ دوں گا!میرے ابو نے اتنے روپے ہی دیئے ہیں‘‘۔
ہلال احمر کے عملے نے چندہ اکٹھا کرنے کے لئے گیارہ بچے آنا تھا۔ وقت مقررہ پر وہ لوگ ہمارے سکول میں داخل ہوگئے ۔ان کی گاڑیوںکے ساتھ ایک اور گاڑی بھی سکول میں داخل ہوئی ۔ جس کو دیکھ کر حسن کی باچھیں کھل گئیں ۔ گاڑی سے اُترنے والی عورت اس کی ماماتھیں۔ ہلکے نیلے رنگ کی ساڑھی ، آنکھوں پر نفیس عینک ، کانوں میں چھوٹے چھوٹے آویزے اور گلے میں ہیروں کا ایک باریک ہارپہنے آنے والی عورت کہانیوں کی کوئی پری معلوم ہورہی تھی۔ جماعت میں حسن سے ملنے کے بعد وہ سیدھی ہیڈ مسٹریس کے کمرے میں چلی گئیں ۔ تھوڑی دیر بعدٹیچر نے ہمارے کمرے میں آکر سب بچوں کو رول نمبر کی ترتیب سے چندہ دینے کو کہا ۔ ٹیچر نام بولتی جاتیں اور بچے اپنا نام پکارے جانے پر اپنی جگہ سے اُٹھتے اور چندہ دے آتے ۔ میرا دل بڑی تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ اچانک ایک عجیب بات ہوئی ہماری کلاس کا ایک اور بچہ عاصم بھی میری طرح پانچ روپے ہی لایا تھا۔ ٹیچر نے اس کو تھوڑا ساڈانٹا اور پھر اپنی جگہ پر بیٹھ جانے کو کہا۔ یہ دیکھ کر میںکافی مطمئن ہوگیا۔ اس کے بعد نام بولے جاتے گئے اور سب بچے پیسے دیتے رہے ۔ میرے علاوہ بھی بہت سے بچے ایسے تھے جو کم روپے لائے تھے اور چند ایک تو ایسے بھی تھے جو بیچارے کُچھ بھی نہ لائے تھے۔
اس سارے عمل کے دوران حسن انتہائی مضطرب تھا۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس کا نام کیوں نہ بولا گیا۔ ہم دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پر حیران تھے ۔ لیکن حسن کُچھ شرمندگی بھی محسوس کررہا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پارہا تھا کہ جب اس کی ماما سکول آئی تھیں تو روپے کیوں نہیں دے کر گئیں۔ وہ سمجھتا تھا کہ وہ دس کی بجائے پچاس یا سوروپے دے کر جائیں گی مگر یہاں تو حالات بالکل ہی اُلٹ دکھائی دے رہے تھے۔ اور پھر جیسے ہی ٹیچر نے آخری بچے سے چندہ لیا ۔ حسن کی ’’ماما ‘‘کلاس روم کے پچھلے دروازے (جس سے صرف ٹیچر اور ہیڈمسٹریس داخل ہوتی تھیں)سے اندر داخل ہوئیں ۔ اُنہیں کلاس روم میں آتا دیکھ کر ٹیچر اپنی کُرسی سے اُٹھ کھڑی ہوئیں۔ حسن کی ماما سیدھی ٹیچر کے پاس پہنچیں ۔ٹیچر نے ہم سب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا’’بچو!یہ ہمار ی جماعت کے حسن ڈار کی ’’امی‘‘ ہیں اور یہ حسن کی طرف سے چندہ دینے کے لئے آئی تھیں۔ مگر ہم نے انہیں روک لیا اور کہا کہ آپ کلاس روم میں آکر حسن کے ہاتھ سے دلوائیے ۔ اس کے ساتھ ہی میں آپ سب کو یہ بتانا چاہوں گی کہ حسن کی امی نے ہلال احمر کی ٹیم کو ایک ہزار روپے چندہ دیا ہے ۔ سب بچے یہ سن کر حیران رہ گئے ۔ ابھی کوئی اس بات کے سحر سے نکل نا پایا تھا کہ ٹیچر نے حسن کو پُکارا کے وہ آئے اور اپنی ’’ماما‘‘ سے روپے لے کر چندہ جمع کروائے ۔ حسن جو کُچھ دیر پہلے تک پریشان دکھائی دیتا تھااور اسے تسلی دینے کے لئے میں نے اس کے ہاتھ کواپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ رکھا تھا۔ ٹیچر کی یہ بات سُن کر انتہائی پرجوش طریقے سے اپنی جگہ سے اُٹھا ،بے اختیار اپنا ہاتھ ایک جھٹکے سے میری گرفت سے آزاد کروایا اور ٹیچر اور اپنی ماما کی جانب بڑھا۔ حسن نے اپنی ماما سے ہزار روپے لے کر ٹیچر کو دئیے ۔ ٹیچر نے نوٹ پکڑتے ہوئے تمام بچوں سے مخاطب ہو کر کہا’’آپ سب کھڑے ہو کر حسن کے لئے تالیاں بجائیں ‘‘ ۔ سب بچے کھڑے ہوکر تالیاں بجانے لگے تالیوں کے شور نے حسن کا چہرہ خوشی اور احساس برتری کی وجہ سے سُرخ اور میرا چہرہ دُکھ اور مایوسی نے بالکل تاریک کر دیا۔
اُن تالیوں کا شور آج بھی میری سماعتوں میں گونجتا ہے ۔مُجھے آج بھی اپنے کانوں کے پردے پھٹتے محسو س ہوتے ہیں ۔ آج جب زندگی کے ان گنت مہ و سال گزر چکے ہیں ۔ آج بھی میں اس سوچ اور ادھیڑ بن میں مبتلا ہوں کہ یہ سب کیا تھا ؟ایسا کیوں ہوا؟میرے دوست کو مُجھ سے کس نے جُدا کر دیا ۔ ہمیں ایک کاغذ کے ٹکڑے کے لئے تالیاں بجانے کو کیوں کہا گیا؟۔مُجھے تا عمر احساس کمتری کا شکار کس نے بنایا ؟پیسے کی بڑائی نے یا دولت کی اس اندھی طاقت نے جو ہماری ٹیچر کے حواسوں پر چھا گئی اور ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت صلب کر لی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں