100

خواب (آوازِ جرس) منعم مجید

یاد ہے اک دفعہ نیم خوابیدہ لہجے میں تم نے مجھ سے پوچھا تھا ’’اس دنیا میں سب سے قیمتی لوگ کون ہوتے ہیں؟‘‘ اور میں نے کہا تھا ’’خواب دیکھنے والے لوگ بہت قیمتی ہوتے ہیں‘‘ ۔ میرا یہ جواب سن کر اک ہنسی تمہارے ہونٹوں سے پھوٹی تھی، تم اس بات کو تسلیم کرنے سے یکسر انکاری تھی۔ اور میں جو تمہاری مسکراہٹ کے سحر میں ہمیشہ کی طرح گرفتار ہوچکا تھا جواب میں کچھ بھی کہنے سے قاصر رہا تھا۔ لیکن آج ۔۔۔آج جب تم نہیں ہو تو میں تمہیں کچھ بتانا چاہتا ہوں شیزہ! ۔میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ نفرت سے بھری اس دنیا میں محبت کے خواب دیکھنے والے لوگ قیمتی ہوتے ہیں ۔ ظلم سے بھرے معاشرے میں انصاف کے خواب دیکھنے والے قیمتی ہوتے ہیں ۔ غربت کی چکی میں پسے ، خوشحالی کے خواب دیکھنے والے لوگ قیمتی ہوتے ہیں ۔ازلوں کی قید میں جکڑے ، آزادی کے خواب دیکھنے والے قیمتی ہوتے ہیں ۔ اور جو آج بھی تم میری اس بات کا یقین نہ کرسکو تو آئو ۔۔۔ آئو اور اک نظر مجھے دیکھو ۔۔۔جو آج بھی جُدائی کی چادر اوڑھے محبت کے خواب بنتا ہے ،جو تنہائی کی راہ پہ چلتے اب بھی بچھڑے یار کی راہ تکتا ہے ۔ لیکن میں جانتا ہوں تمہیں اب ان سب باتوں سے کوئی سروکار نہیں کہ تم تو خود اب سونے سے ڈرتی ہو، نیند سے دور بھاگتی ہو، خواب دیکھنے سے بچتی ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں