صحیح فیصلہ

’’محبت ‘‘جس کے گرد پوری دُنیا گھوم رہی ہے ۔اس دُنیا کا سب سے خوبصورت اورعجیب و غریب جذبہ، ایسا جذبہ جس میں سچائی کی آمیزش دو اجنبیوں کو مانوسیت کی سیج پر لیجاتی ہے ،دوسری جانب جھوٹ یا گناہ کی ذرہ بھرمقداربعض اوقات دو پیار کرنے والوں کو ایک دوسرے سے سدا کے لئے جُدا کردیتی ہے۔انسان کے ساتھ پیدا ہونے والا یہ معصوم جذبہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی عجیب و غریب عفریت کا روپ دھارلیتا ہے،اپنی پوری شدت کے ساتھ حملہ کر دیتا ہے ۔اور ایسے میں اس کے حملے سے بچنا مشکل بلکہ تقریباً ناممکن ہوجاتاہے ۔
آج جب کہ میں اپنی زندگی کے بیس سال گزار کر اکیسویں میں داخل ہوچکی ہوں ۔ سب کُچھ بدل گیا ہے ۔اس ایک سال نے وہ سب دُکھ ،درد یکلخت غائب کر دئیے جو زندگی نے میرے دامن میں قطرہ قطرہ آنسوئوں کی صورت میں اکٹھے کئے تھے ۔ میری بدقسمتی دیکھو کہ اگر تم نے میرے آنسوئوں کو پونچھا بھی تو اسی ’’محبت ‘‘سے کہ جس نے زندگی کو

میرے لئے زہر کی طرح کڑوا اور تلخ بنائے رکھا۔تُم میری زندگی میں ایک ابربے مثل کی طرح آئے اور میری سوکھی ،تڑپتی زندگی کو اپنی چاہت کی مسلسل بارشوںسے ہرا بھرا کر دیا۔ ساری عمر میں جس جذبہ کو جھٹلاتی رہی ،اسی کی مددسے بے حال کر دیا ۔ حماد !کسی لڑکی کے لئے بیس سال کی عمر کُچھ کم نہیں ہوتی ۔جوان ہوتے ہی ہر لڑکی کسی نہ کسی روپ میں اس محبت نامی بلا کے ہتھے ضرور چڑھتی ہے مگر میں اپنی وہ ساری عمر( جسے Teen Ageکہتے ہیں) بناکسی کو دیکھے اور بنا کسی کو جانے گُزار آئی لیکن اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ مُجھ پر اس جذبے نے حملہ نہیں کیا۔ تُم یوں سمجھ لو ،میں نے اس جذبے کو خود پر طاری ہی نہیںہونے دیا۔ اور پھر میں اس کو اپنے قریب یاخود کو اس کے قریب کیسے لے جاسکتی تھی جبکہ میں اس کی حقیقت کو بہت اچھی طرح جانتی تھی ۔
محبت کی ذِلتیں ، اس کی تباہ کاریاں ان سب کا کسی جوان ہوتے دل کو اس وقت معلوم ہوتا ہے جب وہ خود تباہ و بربادہوجاتا ہے ۔ مگر میں اس معاملے میں خوش قسمت رہی،میں اپنے بچپن میں اس کی وجہ سے بہت سے گھر جلتے اورکتنی ہی عورتوں کو اس کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوتے دیکھ چکی تھی ۔محبت میں جب مرد اور عورت ایک دوسرے کو پسند کر کے ایک ساتھ چلنے کے عہدوپیماںکرتے ہیں،دونوں مشکل میں پھنس جاتے ہیںلیکن کامیابی یاناکامی،دونوںصورتوںمیں زیادہ نقصان عورت اُٹھاتی ہے ۔میں ایسی بہت سی لڑکیوں کو جانتی ہوں ،جنہوں نے کہیں دل لگایا اور خود کو ہوش و حواس کی دُنیا سے پرے کر لیا نہ جیتی تھیں نہ مرتی تھیں۔ میں ایسی چند ایک عورتوں کو بھی جانتی ہوں جنہوںنے دُنیا کوبتاکے یابغاوت کر کے ،جیسے بھی اپنے من پسند مرد سے شادی کر لی ۔ان میں سے کُچھ آج پچھتاتی ہیں ،اور کُچھ پاگل پن کی دہلیز پہ کھڑی ہیں ۔میں ایسی ایک عورت کو بہت قریب سے جانتی ہوں
یہی وہ عورت تھی جس کے حال کی اذیت کو میں نے اپنے مستقبل کی مصیبت سمجھ لیا ۔ اس عورت نے اپنے محبوب کو حاصل کرنے کے لئے اپنا گھر بار، بہن ،بھائی اپنے بینک اکائونٹس سب کُچھ چھوڑدیا ۔اور اپنے محبوب کے ساتھ ایک دو کمروں کے گھر میں چلی آئی ۔محبت کا ابتدائی وقت تو پھر بھی کُچھ بہتر گُزر گیا مگر پہلے بچے کی پیدائش کے بعداس کے شوہر نے اپنادوسرا روپ ظاہر کرنا شروع کر دیا ۔ اسے اپنی بیوی سے زیادہ باہر کے لوگ عزیز ہوگئے ۔ وہ ساری رات باہر اپنے دوستوں کے ساتھ گُزارتا اور اس کی بیوی اپنے خالی بستر کی شکنیں ٹھیک کرتے رات بِتادیتی ۔ اس نے اپنے شوہر کے لئے وہ سب کیا جو وہ کر سکتی تھی ۔ اس کی ہر ذمہ داری اپنے سر لے لی، اس کے گھر کو سنوارا ،اس کے بچوں کی ماں بنی لیکن اس کے نصیب میں شاید سُکھ تھا ہی نہیں ۔ اس کا شوہر ہر لمحہ اس سے دور ہوتا گیا ۔ محبت کا پاس سچے جذبے ،وہ جذبے جو دو دلوں کو ایک ساتھ دھڑکناسیکھاتے ہیں اوروہ دھڑکنیں جو محبوب کی سانسوں کے ساتھ چلتی ہیں،سب فنا ہوگئیں۔اُن کے درمیان صرف تنہائیاں اور ایک دوسرے کی پرچھائیاں رہ گئیں ۔ آخر گھٹ گُھٹ کر وہ عورت اپنی موت آپ مرگئی ۔ وہ جب تک زندہ رہی اپنے اس فیصلے پر پچھتاتی رہی ۔ ماں باپ بہن بھائی سب صرف ایک شخص کے لئے چھوڑنا اس کو بہت مہنگا پڑا تھا ۔ وہ تین خوبصورت اورسمجھداربچوں کی ماں تھی لیکن وہ اس پر ذرا بھر مغرور نہ تھی ،شاید وہ بہترین ماں بننے سے زیادہ اچھی بیوی کہلانے کی خواہشمند تھی۔افسوس!قسمت نے اس کی ایک خواہش پوری کی تو دوسری بہت سی ادھوری چھوڑ دیں ۔ حماد !جانتے ہو وہ عورت کون تھی ؟ وہ عورت !! وہ عورت میری ماں تھی ۔ تُم یقینا حیران ہوگے مگر اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ اپنے ساتھ یہ سب ہونے کے باوجود ہماری ماں نے ہم بہن بھائیوں کوکبھی محبت سے نفرت کا سبق نہیں پڑھایا تھا وہ کہتی تھی ’’شاید میرے مقدر میں ہی یہ لکھا تھا ‘‘۔مگر میں سمجھتی ہوں اس کی تقدیر خُدا نے ایسی نہیں بنائی تھی بلکہ اس نے اپنی قسمت میں خود ایسا لکھا تھا ۔ ایک ایسی لڑکی جسے قدرت نے حسن ، جوانی ، دولت سب کُچھ دیاہو اگر وہ خُدا کے ان تحفوں کو ٹُھکرائے گی تو سزا ضرور ملے گی۔ اور شاید یہ قدرت کا انتقام تھا۔ جس کا سامنا اس نے کیا۔
یہی وہ وجہ تھی جس نے مُجھے تُم سے دور رکھا۔میں کیسے تُمہارے قریب آسکتی تھی جبکہ میں جانتی تھی کہ محبت کسی عذاب سے کم نہیں ۔ تُم جتنے خلوص سے میری جانب بڑھے میں اُتنی ہی جھنجھلاہٹ سے تُم سے دور بھاگی ۔ حماد میرا یہ خوف تُم سے اس لئے نہیں تھا کہ تُم ایک مرد ہو اور مُجھے مردوں سے نفرت ہے بلکہ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ میں جان گئی تھی کہ تُم اب تک میری طرف بڑھنے والے سب لوگوں سے مختلف ہو ۔میں ڈرتی تھی کہ کہیں میں بھی دوسرے لوگوں کی طرح اس محبت نامی بلا کا شکار نہ بن جائوں ۔
حماد!میں تُمہارے ساتھ ایسی کوئی روایتی بات نہیں کروں گی ۔جو اپنی قدر نہ رکھتی ہو اور نہ میں دوسری لڑکیوں کی طرح تُمہیں یہ کہوں گی کہ میں تُمہیں اس دُنیا میں سب سے زیادہ پیار کرتی ہوں ۔ میں تُمہیں یہ باور کروانے کی کوشش بھی نہیں کروں گی کہ اگر تُم مُجھے نہ ملے تو میں مرجائوں گی ۔ لیکن میں تُمہیں اتنا ضرور کہوں گی کہ آج میرے لئے اس دُنیا میں سب سے اہم تُم ہو ،تُمہاری ذات ہے ۔حماد!آج میرے دل میں جتنا پیار ہے ۔وہ سب تُمہارا ہے لیکن اس کے ساتھ میں تُمہیں یہ بھی بتاتی چلوں کہ تُم سے پیار اپنی جگہ لیکن میرے دل میں تُمہارے لئے کہیں کوئی ایسی تڑپ نہیں جو مُجھے میرے گھر والوں سے باغی بنا دے ۔ حماد !میرے دل میں جتنی عزت ہے ۔وہ میرے گھروالوں کی ہے تُم یقینا حیران ہورہے ہو گے کہ جب گھر والوں کی عزت ہے تو تُمہاری کیوں نہیں ۔ تو سنو! حماد میں تُم سے پیار کرتی ہوں ۔ پیار پر کسی کا بس نہیں یہ یک دم چڑھنے والے نشے کی مانند ہے جبکہ عزت آہستہ آہستہ اپنی جگہ بناتی ہے ۔ اور میں نہیں سمجھتی کہ ابھی تُم نے میرے لئے کُچھ ایسا کیا ہو کہ میں تُمہاری عزت کرنے پر مجبور ہوجائوں ۔’’میکڈونلڈز‘‘ اور’’کے۔ ایف۔ سی‘‘ میں ’’ڈیٹس ‘‘پیار بڑھانے میں مدد ضرور کر سکتی ہیں لیکن یہ عزت بڑھانے کا ذریعہ ہر گزنہیں بن سکتیں۔پیار گھروالوںسے چھپ کر چوری چوری ملنے پر مجبور کر دیتا ہے اور کسی کو چوری پر مجبور کرنے والے کی عزت کیسے کی جاسکتی ہے؟تُمہاری عزت میں اس وقت کروں گی ۔جب تُم مُجھے میرے گھر سے عزت کے ساتھ لے جائو گے ۔ دُنیا کی کوئی بھی لڑکی اپنے بوائے فرینڈ سے پیار کر سکتی ہے مگراس کی عزت نہیں۔عورت سے عزت کروانے کے لئے مرد کو پیار کے سوا کُچھ دوسری ذمہ داریاں نبھانا بھی ضروری ہوتی ہیں ۔کسی عورت کا شوہر اسے خوش رکھے ،وہ اس سے پیار کرتی ہو یا نہ لیکن اس کی عزت ضرور کرتی ہے۔ مرد کا اصل امتحان شادی کے بعد شروع ہوتا ہے۔شادی کا بندھن ایک عجیب بندھن ہے یہ تعلق بظاہر دیکھنے میں جتنا خوبصورت اور سادہ نظر آتا ہے درحقیقت اتنا معصوم نہیں ۔اس رشتے کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ یہ محبت کی طرح اندھا نہیں ہوتا ۔ دو پیار کرنے والے ایک دوسرے کو سالہا سال جھوٹ اور فریب کی دنیا میں رکھتے ہیں اور محبت ان کی اس دھوکہ نگری کو قائم رہنے میں مکمل طور پر ان کی معاون ثابت ہوتی ہے مگر شادی کا معاملہ ایسا نہیں۔اس میں جھوٹ اور بے ایمانی کی دال ایک دن بھی نہیں گل پاتی،بعض اوقات کئی سال کامیابی سے عشق کرنے والے شادی کے چند ماہ بعد ہی ناکام ہوجاتے ہیں ۔ ایک دوسرے کو چور اور دھوکہ باز جیسے القابات سے نوازتے ہیں۔ساری زندگی ایک دوسرے کے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھانے والے تھوڑے عرصے بعد ہی انتہائی سچے دل سے علیحدگی بارے سوچنا شروع کردیتے ہیں۔
آج میری مسکراہٹ دیکھ کر تُمہیںکھلتے گلاب یاد آتے ہیں ، میری ہنسی تُمہیں کسی دلکش ساز کی مانند لگتی ہے ،اس وقت تُمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش میری گود میں سررکھنا،میری زلفوں سے کھیلنا اورہر لمحہ مُجھے پیارکرتے رہنا ہے ۔تُمہاری ہر خواہش میں موجود سچائی اور معصومیت اپنی جگہ ،مگر خود سوچو !کیا کل شادی کے بعد بھی یہ سب ایسا ہی ہوگا؟۔ جب میری ہنسی کو سننا ، میری مسکراہٹ کو تکنا ، میرے لبوں کو چھونا یہ سب خواہشیں تکمیل کا لبادہ اوڑھ کر فنا ہوچکی ہوں گی،جب تمہارے لئے میرے گیسوئوں کی پراسرایت توکجا میرا جسم بھی ایک کھلی کتاب بن جائے گا ، میری گود میں تُمہارے دو تین بچے ہوں گے اورمیں مکمل طور پر تُمہارے رحم و کرم پر ہوں گی ،کیا تب تُم مُجھے اتنا پیار کرسکوگے جتنا آج کرتے ہو ؟ کیااس وقت بھی میں تُمہارے لئے اتنی اہمیت رکھتی ہوں گی جتنی آج رکھتی ہوں ؟ اگر ان سب باتوں کے جواب میں تُمہارا جواب ہاں میں ہے تو یقینا تُم ایک قابل ستائش مرد ہولیکن اگر تُم ایک لمحہ کے لئے بھی گومگو کی کیفیت میں کھوئے ہو تو تُمہیں ابھی بھی اپنے فیصلہ پر نظر ثانی ضرور کرنی چاہیے ۔قبولیت کے بعد ٹھکرائے جانے سے بڑا عذاب کوئی نہیں ، شاید یہی وہ خوف ہے جو بچپن سے لے کر آج تک مُجھ پر ہنوز طاری ہے ۔ اسی کی وجہ سے میں اپنی زندگی میں محبت کو کبھی اہمیت نہ دے سکی۔
حماد!محبت کی لافانیت اور سچائی اپنی جگہ مگر اس کی خود غرضی اور خود پرستی سے آنکھیں نہیں چرائی جاسکتیں۔ جسم و جاں کے باہم ملاپ سے حاصل ہونے والی روحانی و جسمانی تسکین کے ساتھ ساتھ اس قربت کے نتیجے میں حاصل ہونے والی رسوائیوں سے بھی منہ نہیں موڑا جاسکتا ۔ یہ ایسا بدقسمت کھیل ہے جس کے بدنصیب کھلاڑی ہار کر تو ہارتے ہی ہیں جیت کر بھی ہار جاتے ہیں ۔ آج جب کہ ہم اس کے چنگل میں بری طرح پھنس چکے ہیں آئو آج ایک عہد کریں ۔ عہد جو ہم دونوں ضرور اور ہر حال میں نبھائیں گے۔ حماد مُجھ سے وعدہ کرو کے اگر ہم محبت میں کامیاب ہوں گے تو دُنیا کی ریت و رواج کے مطابق ، ماں باپ کی رضامندی کے ساتھ اور اگر ناکام ہوں گے، کسی صورت زمانے سے بغاوت نہیں کریں گے ۔ وعدہ کرو کہ اگرقسمت نے ہمیں محبت کے صلہ میں جُدائی سے نوازا تو ہم جذبات کی رو میں بہک کر کوئی ایسا فیصلہ نہیں کریں گے جو ہمیں جُدائی کے امرت کی بجائے رسوائی کا زہر پلادے۔ ہم محبت کو رسوا کردیں گے لیکن ماں باپ ، بہن ، بھائی ، دوست یا ایسے کسی تعلق کو رسوا نہیں ہونے دیں گے۔ جو ہمیں پیارا ہو یاجسے ہم پیارے ہوں۔ہماری ناکامی بظاہر محبت کی ہار ہوگی لیکن یہ ماں باپ سے پیار کی جیت ہوگی۔ ہم اپنے پیار کو اپنے ماں باپ کی خوشی کے لئے قربان کردیں گے۔ہماری اس شکست میں ہمارے خاندان کی فتح ہوگی ۔ دُنیا بھر کے عاشق ومعشوق ہمیں ذلیل و رسوا کریں گے تو دوسری جانب سارے جہاں کے ماں باپ ہمارا ذکرفخر و غرور سے کریں گے ۔ہم مستقبل کے رومیو جولیٹ نہ بن سکیں تو کیا غم لیکن کیا یہ کم ہے کہ ہم اپنے والدین کی آنکھوں کے آنسو بننے کی بجائے ،اُن کے ہونٹوں کی مسکان بن جائیں گے۔