103

غُلام زندہ ہیں

انگریزوں کوبرصغیر سے گئے نصف صدی سے زیادہ بیت گیا۔ہم آزادی کی گولڈن جوبلی منا کر ڈائمنڈ جوبلی کی جانب بڑھ رہے ہیں ۔ آزادی کے جشن ہم آج بھی اُسی جوش و خروش اور توانائی سے مناتے ہیں جس زور و شور سے ابتدا میں مناتے تھے اگرچہ ان پچاس سالوں میں ہم نے وطن عزیز کو کُچھ نہیں دیا بلکہ جو کُچھ اس کااپنا (مشرقی پاکستان)تھا وہ بھی اس سے چھین لیا ۔آدھا ملک گنوا نے کے باوجود ہمارے چہرے پرذرہ بھر شرم یا دُکھ کے آثار نہیں ۔ آزادی کے لئے مرمٹنے والوں نے آزادی ملنے کے بعد اُس کی کتنی لاج رکھی یہ ایک تکلیف دہ سوال ہے ۔ دسمبر کا مہینہ ہمیشہ پاکستانیوں کو ایک ایسے زخم کی یاد دلا تا ہے جو اپنوں کا دیا ہوا ہے ۔ سقوط ڈھاکہ ہماری تاریخ کا وہ المناک باب ہے جس پر ہم تا زندگی شرمندہ ہوتے رہیں گے ۔ طاقت کے متوالوں کو اقتدار کی یہ کرسی ،جس کی خاطر وطن عزیز کو دو ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا ۔پھانسی کے پھندوں اور گولیوں کی بوچھاڑوں کے سوا کُچھ نہ دے سکی ۔
ہم آزاد ہیں ،یہ ہم سب جانتے ہیں لیکن کتنے آزاد ہیں ؟یہ بہت کم لوگ جانتے ہیں ۔ ہماری یہ آزادی جسمانی آزادی ضرورہے لیکن ذہنی غلامی آج بھی ہم پر اُسی طرح اپنا تسلط جمائے ہوئے ہے جس طرح آج سے سو سال پہلے تھی ۔ہم آج بھی اپنے اوپر ہونے والے ظلم اور زیادتی پر زندانوں میں قید اُسی بے بس قید ی کی طرح آنکھیں بندکئے بیٹھے ہیں جو کُچھ کرنے کے قابل نہیں ہوتا ۔یقین نہیں آتا، سینکڑوں برس برصغیر پر حکومت کرنے والے مسلمان صرف چند سال کی غلامی سے نہیں نکل پارہے ۔ کہتے ہیں صاحب کردار انسان کو دشمن بھی صاحب کردار ملتا ہے شاید یہی وجہ تھی ہمارے آبائو اجداد کا واسطہ اصول پرستوں سے پڑا ۔آج جب کہ ہم لوگ اپنے کردار کو کھو بیٹھے ہیں ۔ہمارا واسطہ امریکہ جیسے دشمن سے پڑا ۔جس کا کوئی اصول نہیں ماسوائے عیاری کے ۔جو کسی طاقت کو نہیں مانتا ماسوائے اسلحے کے ۔ جسے اپنے بارود پر خُدا سے بھی زیادہ اعتماد ہے ۔ 11ستمبر کے واقعے کے بعد امریکہ خُدائی کے غرور میں پوری دُنیا سے ٹکر لینے نکل پڑا ہے ۔ ایک ایسا حادثہ جس پر پوری دُنیا بلک رہی تھی ،رو رہی تھی ۔ ہر ملک و قوم کے لوگ امریکی عوام کا درد اپنے دل میں محسوس کر رہے تھے ان کو اپنے سینوں سے لگانا چاہتے تھے ۔ صدر بش کے ’’کرسیڈ وار‘‘کے نعرے نے دُنیا کو دو حصو ں میں بانٹ دیا ۔ ایک شخص کی غلطی پوری قوم کو بھگتنی پڑی ۔ امریکی صدر نے امریکہ میں گرنے والے دو ٹاورز (WTC)کا بدلہ دو مسلمان ممالک(عراق،افغانستان) کو تباہ و برباد کر کے لیا ۔ 3000امریکیوں کے مرنے کا بدلہ لاکھوں انسانوںکو جنگ کی بھٹی میں جھونک کر لیا ۔ ہزاروں کو مارا اور لاکھوں کو زخمی کیا ۔ دہشت گردی کے خلاف ایک ایسی نام نہاد جنگ شروع کر دی ہے جس کا اصل مقصد صرف امریکہ مخالف ممالک کو تہس نہس کرنا ہے ۔
دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان نے امریکہ کا مکمل ساتھ دیا ۔ وہ سب کُچھ کیا جو امریکہ نے چاہا ۔وہ سب کُچھ دیا جو امریکہ نے مانگا مگر اس کے بدلے میں امریکہ نے پاکستان کو سوائے ذلت اور رسوائی کے کُچھ نہیں دیا ۔ امریکہ میں بسنے والے مسلمان خاص طور پر پاکستانی مسلسل اذیتوں کا شکار بنے ۔ان میں جسمانی و روحانی دونوں طرح کی تکلیفیں شامل تھیں ۔ جمہوریت کا چیمپئن بننے کے دعوے دار امریکہ میں سینکڑوں پاکستانیوں پر جھوٹے مقدمے دائر کئے گئے ۔ ذاتی اور نسلی تعصبات کی اس جنگ میں ’’ریحان حسن ‘‘جیسے ہزاروں پاکستانی طرح طرح کے عذابوں سے گُزرے ۔ اپنی کتاب ”The Land Of Freedon?”میں ریحان حسن نے امریکی معاشرے کے شخصی آزادی کے جھوٹے نعروں کی حقیقت بیان کی ہے ۔ ایک پڑھے لکھے نوجوان کو ایک جھوٹے کیس میں ملوث کر کے کس طرح اس کی تذلیل کی گئی یہ قابل غور ہے ۔ نجانے کتنے ہی اورریحان حسن امریکی جیلوں میں قید ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں ۔
آج ہم لوگ اس قدر خود غرض اور بے حس ہوچکے ہیں کہ ہمیں سوائے اپنے اور اپنی خوشی کے اور کُچھ دکھائی نہیں دیتا ۔ ہم صرف جینا چاہتے ہیں بنا کسی منزل کے بغیر کسی مقصد کے ۔ ہمارا نصب العین پیسہ بن چکا ہے ۔ دولت کے حصول کی خاطر ہم ہر وہ کام کر سکتے ہیں جس کی ہمارا ضمیر اجازت نہ دے ۔ آج بھی امریکہ کا ویزہ ہمارے لئے وہی کشش رکھتا ہے جو 11ستمبر سے پہلے رکھتا تھا ۔ ہمارے زیادہ ترسیاسی و دینی رہنما جو امریکہ کے خلاف گھنٹوں تقریریں کرتے ہیں اپنا علاج امریکہ میں کروانے کو اول ترجیح دیتے ہیں ۔ ہم لوگ اپنا مذہب بھول چکے ہیں ، کوئی بات نہیں ،ہماری کوئی پہچان نہیں رہی اس کا بھی کوئی گلہ نہیں ۔ لیکن دُکھ اُس وقت ہوتا ہے جب پوری دُنیا کسی مسئلے پر ایک قوم بن جاتی ہے اور ہم شتر بے مہار کی طرح پھر رہے ہوتے ہیں ۔ افغان جنگ کے موقع پر پاکستان کے وہ سیاسی و دینی رہنما جو کہ مذہب اور ملک کے نام پر جینے مرنے کی قسمیں کھاتے نظر آتے تھے نجانے کہاں جا چُھپے۔پوری دُنیا میں جنگ کے خلاف مظاہرے ہورہے تھے اور ہم لوگ جن کے گھر میں جنگ ہورہی تھی چین کی نیند سو رہے تھے ۔ حکمرانوں کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں ، عوام کی اپنی ۔ حکمرانوں نے ملکی سالمیت و بقا کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرنے ہوتے ہیں جبکہ عوام نے اپنے دل کی آواز پر لبیک کہنا ہوتا ہے ۔ افغان جنگ میں امریکہ کی حلیف ریاستوں میں زبردست مظاہرے ہوئے یہاں تک کے خودامریکہ کی اپنی ریاستوں میں لاکھوں لوگوں کے جلوس نکلے لیکن پاکستان وہ واحد ملک جس کے عوام نے اپنے حکمرانوں کے فیصلے کو بھر پور انداز میں سراہا اور ہر طرح سے حکومت کو سپورٹ کیا۔حکمرانوں کے خلاف ایک چھوٹا سا احتجاجی جلوس نہ نکالا اور اگر کوئی جلسہ کیا بھی تو تب کیا جب افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بج چکی تھی۔ افغان تباہی کی تاریخ لکھتے وقت مورخ ہمیں کس جانب کھڑا کرتا ہے اس سے قطع نظر ،دُنیا میں جنگل کا قانون نافذ کرنے میں ہمارا ہاتھ کس قدر ہے یہ دیکھنے کے لئے ہمیں اپنے گریبان میں ضرور جھانکنا پڑے گا۔ کیا یہ ہم ہی نہیں تھے جنہوں نے طاقتور کے سامنے ایک ٹیلی فون پر ’’یس ‘‘کہنے سے لے کر عراق میں آخری میزائل داغے جانے تک ’’نو‘‘ کہنا مناسب نہیں سمجھا ۔ یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ خُدا نے اسے پوری دُنیا میں ایک خاص عزت و شہرت سے نوازا ہے لیکن بدقسمتی سے ہم نے امتحان کی ہر گھڑی میں مایوس کن کارکردگی دکھائی ۔ دُنیا میں طاقت کا توازن بگاڑنے میں ہم نے کتنا کردار ادا کیا یہ سب جانتے ہیں ۔ پاورز (امریکہ ، روس)کی لڑائی میں سپر پاور کا تاج امریکہ کے سر پر سجانے کا سہرہ ہمارے ہی سر جاتا ہے ۔عراق جنگ کے موقع پر اگر یہی سپر پاور دُنیا کے سب سے معتبر ادارے UNOکے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کرنے کی جُرت کر سکی ۔اس میں ہمارا کتنا ہاتھ ہے یہ بھی ہمیں خود ہی سوچنا پڑے گا۔ ہمیں سوچنا پڑے گا کہیں یہ ہم تو نہیں جنہوں نے طاقتور کو یقین دلایا کہ ہم وہ ’’میمنے ‘‘ ہیں جنہیں ’’بھیڑیوں‘‘ کو کھا ہی جانا چاہیے ؟۔
پاکستان ایک آزاد ملک اور اس میں بسنے والے آزاد شہری ہیں ۔ آزاد قوموں اور آزاد انسانوں کی ایک الگ پہچان ہوتی ہے ۔ اُن کے چہروں پر ایک ایسا فخر اور غرور ہوتا ہے جو بظاہر ایک عام آدمی نہیں دیکھ پاتا لیکن وہ شخص ضرور اُس فخر کو محسوس کرتا ہے جو خود غلام ہو ۔ انگریزوں سے آزادی کی جنگ لڑنے اور غلامی کی زنجیریں توڑنے والے وہ تمام مقدس انسان جنہوں نے پاکستان کوآزادمملکت بنایاآج تہہ خاک سوچکے ہیں یا زندگی کی آخری دہلیز پر موت کے انتظار میں کھڑے ہیں ۔ آزادی کے جومتوالے مرچکے وہ شہید اور جو زندہ ہیں وہ مقدس۔ وہ سب جنہوں نے پاکستان کو آزادی دلانے میں اپنا کردار ادا کیا قابل تعظیم ہیں ۔ یہ لوگ غلام ہونے کے باوجود آزاد ذہنوں کے مالک تھے ۔
انگلستان نے دُنیا کے بہت سے ممالک پر حکومت کی ہے ان میں پاکستان بھی شامل ہے ۔آزاد انسانوںکو غُلام بنا کر کتنا سکون ملتا ہے یہ تومیں نہیں جانتا لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ آزاد انسانوںکو جسمانی طور پر غُلام بنایا جاسکتا ہے لیکن روحانی طور پر نہیں اور ایسے ہی ذہنی غُلاموں کو جسمانی طور پر آزاد کیا جاسکتا ہے لیکن اُن کے ذہنوں سے غُلامانہ فطرت کھرچی نہیں جاسکتی ۔ شاید اسی لئے انگلستان کے لوگ آج بھی میرے حواسوں پر چھائے ہوئے ہیں ۔ سپر پاور امریکہ کا صدر جو کہ میرے لئے دُنیا کی سب طاقتور ہستی ہے ان کے لئے ایک قاتل ۔ امریکی صدر بش وہ شخص ہیں کہ اگر مُجھے حُکم کریں تو میں اپنا گھر ان کے لئے خالی کر جائوں لیکن یہی بش جب لندن کا دورہ کرتے ہیں تو وہاں پر Go BACK GO BACKکے پلے کارڈز اُٹھائے ہر عمر کے بچے احتجاج کرتے نظر آتے ہیں ۔ حکومتی سطح پر مدعو کئے گئے معززمہمان کو Killer Killerکے نعروں کی آواز میں بلٹ پروف گاڑی میں چھپنے پر مجبور کر دینے والے یہ گورے مُجھے خوفزدہ کر دیتے ہیں ۔ صدر بش انگلستان کے حالیہ دورے کے دوران اُن فوجیوں کے والدین سے ملنا چاہتے تھے جن کے بچے عراق میں جنگ کے دوران مارے گئے مگر میں حیران ہوں اُن لوگوں پر جنہوں نے سپر پاور کے صدر سے ملنے اور ہاتھ ملانے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کے وہ اپنے بچوں کے قاتل سے ہاتھ نہیں ملائیں گے ۔ صدر بش کی آمد کے دن دو لاکھ سے زائد افراد نے احتجاجی جلوس نکالا جو کہ چار میل طویل تھا ۔ لندن کی تاریخ میں اس جلوس کو تاریخی حیثیت حاصل ہو چکی ہے ۔ ورکنگ ڈے میں اتنا بڑا جلوس ایک ریکارڈ ہے ۔عراق میںامریکی فوجوںنے جسطرح صدام کامجسمہ زمین بوس کیا میرے جیسا شخص سوائے افسوس اور کڑھنے کے اور کُچھ نہ کرسکا لیکن انگلستان کے لوگوں نے صدر بش کی آمدپر لندن میںاُن کے مجسمہ کے ساتھ وہی سلوک کیا جو امریکی فوجوںنے عراق میںصدام کے مجسمے کے ساتھ کیا لیکن ان دونوںکے اس عمل میںزمین آسمان کا فرق تھا امریکی فوجوںنے صدام حسین کا مجسمہ جس وقت گرایاوہ عراق صاحب اقتدار نہیںرہے تھے۔ جب کہ صد ربش کامجسمہ لندن کے لوگوںنے اُس وقت گرایا جب دُنیا کاسب سے طاقتور شخص اُن کی سرزمین پر قدم رکھ چکا تھا اُن کے شہر میںداخل ہوچکاتھا۔یہ سب دیکھ کر اچھالگتاہے، بہت اچھالگتا ہے ۔کمزوروں پر چڑھائی کرنابے وقوفی کی علامت اور ظالم و جابر حکمرانوںکے سامنے کھڑاہوناقوموںکے زندہ ہونے کی نشانی ہے ۔
انگلستان کے لوگوں کی یہ حرکتیں دیکھ کر مُجھے دُکھ ہوتا ہے نجانے مُجھے کیوں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ ایسا مُجھے ذہنی طور پر تباہ کر نے کے لئے کرتے ہیں ۔ جب یہ لوگ انسانیت کی آواز پر اپنے گھروں سے یہ سوچے سمجھے بغیر باہر نکل آتے ہیں کہ ہم جن کے لئے اپنے آرام دہ کمروں سے باہر نکل کر جلوس نکال رہے ہیں احتجاج کر رہے ہیں رہے ہیں وہ مسلمان ہیں یا عیسائی ہندو ہے یا یہودی ۔ مُجھے تکلیف ہوتی ہے ، بہت ہوتی ہے ۔ جب یہ لوگ کسی مسلمان ملک پر جنگ کے خلاف ٹینکوں کے آگے لیٹ کر اپنی جانوں کا نذرانہ دیتے ۔ خود تو امر ہوجاتے ہیں اور مُجھے زندہ درگور کر دیتے ہیں ۔ میرا دل کرتا ہے کہ میں ان کے نقش قدم پر چلوں پر میرا دماغ کہتا ہے کہ نہیں !تُم آزاد ہو۔ تُمہیں اپنے راستے پر چلنا ہے ۔ میں چاہتا ہوں کہ میں بھی دُنیا میں ہونے والے ظلموں پر، اپنے ملک میں ہونیوالی ناانصافیوں پر احتجاج کروں ۔ اپنے ایٹمی سائنسدانوں کی امریکی ایجنسیوں کے ہاتھوں گرفتاری پر شور مچائوں۔ایک ایٹمی طاقت کی مالک مملکت کا شہری ہونے پر فخر کروں ۔ اپنے ملک کی کامیابی کی نشانیوں کے بارے میں فخر سے ذکر کروں ۔ وہ ہتھیار جو میری بقا کے لئے ضرور ی ہیں اُن کی ایجاد پر فخر کروں اُن کو نا سہی اُن کے ماڈلز کو دیکھ کر ہی خوش ہوسکوں ۔غوری میزائل کے ماڈل کو دارلحکومت جیسے اہم شہر سے اُکھاڑنے والے سے باز پُرس کر سکوں اور اگر یہ نہیں تو کم از کم کوئی چھوٹا سااحتجاج کروں لیکن افسوس کے میں ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ میں اتنا طاقتور نہیں ، آزاد نہیں ۔
اگر بہادری’’ حکومت ‘‘اور بزدلی ’’غُلامی ‘‘کی علامت ہے تو مُجھے تسلیم کہ میں غُلام ہوں ۔ میں اپنے گھر کی آگ بجھانے سے قاصر جب انہیں دوسروں کے گھروں کی آگ میں کودتے دیکھتا ہوں تو میرا دل میرے غُلام ہونے کی تصدیق کر دیتا ہے ۔ لیکن نجانے مُجھے کیوں ایسا لگتا ہے کہ جیسے میں اکیلا نہیں ہوں اس مُلک میں مُجھ جیسے اور بھی غُلام ہیں میں نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہیں اور ہیں بھی کہ نہیں لیکن مُجھے یقین ہے کہ نصف صدی گزرنے کے باوجود آج بھی ، ہاں آج بھی ۔۔۔۔کُچھ غُلام زندہ ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں