119

محبت (قابلِ رحم) منعم مجید

تُم سے دوری مُجھے سکون دیتی ہے یا تُمہاری قربت میرے لئے زیادہ تسلی کا باعث ہے ۔ محبت کی ان انتہائوں کو چھونے کا تصور بھی میرے پاس نہ تھا ۔ میں اپنی ذات میں گم ، ہر دم اپنے خیال میں مست ، اک بے ضررسا انسان آج دُنیا کے سب سے مشکل امتحان میں پھنس چکا ہوں ۔ میری زندگی کے وہ بائیس سال ایک طرف اور یہ پچھلا سال ایک طرف۔ان گزشتہ سالوں میں جتنی نفرت اور پیار مُجھے ملا اس اس کے مقابلے میں اس ایک سال کی عنائیتیں ایک طرف۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے قدرت کے سامنے صرف میری ہی جھولی ہے جسے وہ ہر پل ہر لمحہ بھرتی جارہی ہے ۔ بن مانگے اتنا ملا کے اِک پریشانی نے گھیرلیا۔ دل کھٹکنے لگا کے کہیں کچھ ہو نا جائے ۔ موسم کی انتہا بارش سے پہلے تک ہوتی ہے ، بارش دلفریبی کی آخری حد ہے اور آخری حد کسی بھی واپسی کے سفر کا پیش خیمہ ہوتی ہے ۔ ہر محبت کو کوئی نہ کوئی آسیب ضرور ڈستا ہے۔ اب یہ پیار کرنے والوں پر ہے کہ وہ اس کے زہر کو برداشت کرجائیں یا اس کے سامنے ہمت ہار جائیں ۔اور میں نادان یہ سمجھتارہا کہ میری طرح تم بھی راہ میں آنے والی ہر مشکل کا مقابلہ حوصلہ سے کرو گی مگر افسوس کے تمہارے پیروں میں پہلے کانٹے پر ہی زخم بن گئے ۔ اس ذرا سی تکلیف پر تُمہاری رنگت زرد ہوگئی اور تم آخری دم کی مہمان دکھائی دینے لگی ۔ یک دم ہی تُمہیں اپنے ماں باپ اور بہن بھائی سب یاد آگئے اور میں جو صرف تُمہاری رفاقت کی خوشی میں جنوں کے اس تپتے صحرا میں آنکلا تھا اس کو بالکل بھول گئیں۔ مُجھے دُکھ تُمہاری اس زیادتی پر نہیں کہ تم نے بیچ سفر کے واپسی کی راہ لی بلکہ مُجھے رونا اپنی نادانی پر آرہا ہے کیوں میں تُمہارے عشق میں اتنا بے پروا ہو کر چلا کے عورت کی فطرت کو ہی ذہن میں نہ رکھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں