106

یادیں (آوازِ جرس) منعم مجید

دنیا کاکوئی انسان یہ نہیں جانتا کہ زندگی کو اس سے کتنے امتحان مقصود ہیں۔ ان امتحانوں اور آزمائشوں میں سے کتنی پر وہ حاوی ہوگا اور کتنی اس پر حاوی ہوں گی۔ جس طرح بارش کے لئے ترستے کھیت ، کھلیان یہ جاننے کی صلاحیت نہیں رکھتے کہ ان پر سایہ کرنے والا کون سا بادل انہیں سیراب کرے گا اور کون سا بادل انہیں پیاسا چھوڑ جائے گا ۔ ایسے ہی انسان بھی اپنی زندگی میں آنے والے طوفانوں کو سمجھ نہیں پاتے ۔ یہ طوفان بھی عجیب ہوتے ہیں کبھی تو ساحل پر کھڑے آدمی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں اور کبھی منجدھار میں پھنسے انسان کو کنارے پر لاپھینکتے ہیں ۔ کامیابی کی خوشی اور ناکامی کا دکھ دونوں ہی بہت عجیب ہوتے ہیں ۔ انسان دونوں کو بہت بھرپور طریقے سے مناتا ہے ۔ کل یہی وہ دن تھا جب ہم نے محبت کی مقدس مالا کو چوم کر پہنا تھا ۔ آج کے دن ہی ہم نے اپنی محبت کی بانہیں ایک دوسرے کے گلے میں پہنائیں تھیں ، تاحیات ساتھ چلنے کا وعدہ کیا تھا ۔ اس دن کو ہمیشہ منانے کی قسم کھائی تھی ۔ آج پھر وہی دن ہے لیکن آج میرے گلے میں تُمہاری بانہوں کی جگہ رسوائی کا طوق ہے۔ آج وہ سب نہیں جو اس دن تھا نہ میرا چہرہ تُمہارے ہاتھوں میں ہے اور نہ تُمہارا جسم میری بانہوں میں ۔ میرا دماغ قوی اور دل کمزور تر ہوتا جارہا ہے ۔ تُمہاری یاد کا زہر میرے ذہن سے نکل کر دل تک پہنچتا ہے تو سب کچھ ڈوبتا ہوا دکھائی دیتا ہے ۔ اور جب یہ آگ دل سے نکل کر لبوںتک پہنچتی ہے تو سب کچھ جلتا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔ہر سال آج کے دن میں خود سے عہد کرتا ہوں کہ تُمہیں اور تُمہاری یادوں کو بھلاسکوں یا نہ لیکن اس دن کو ضرور اپنے ذہن سے کھرچ دوں گا اور اگلے سال اس دن کو ضرور بھول جائوں گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں